اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا



اپنے بے خواب کواڑوں کو مفصل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

ایک دھول سے اٹا ہوا دروازہ، جس کے کنارے مٹی اور وقت کی چپ لگی گواہی دیتے تھے، اُس پر لگا زنگ آلود اور آدھا ٹوٹا ہوا تالا اب بھی جیسے کسی امید کا پہرہ دے رہا تھا۔ دروازہ تھوڑا جھکا ہوا ضرور تھا، مگر کھلا تھا ، جیسے بانہیں پھیلائے کسی اپنے کی واپسی کا انتظار کر رہا ہو۔
شریف صاحب کی نگاہیں بار بار اُسی دروازے کی طرف لوٹ جاتیں، دل کی کسی کونے میں دبی ہوئی اُمید جیسے ہر بار اُن
کی آنکھوں میں جھلک دیتی۔ وہ کروٹ بدلتے، مگر نظر پھر وہیں جا ٹھہرتی ، اُس دروازے پر، جو ابھی تک کھلا تھا، منتظر، وفادار، بے صدا… مگر بہت کچھ کہتا ہوا۔
کس کا انتظار ہے 
 یہ سوال اُس کے ذہن میں بار بار گونجتا۔

کسی کا نہیں… وہ خود کو بارہا یقین دلاتا، خود کو سمجھاتا، جیسے دل کو بہلا رہا ہو۔ مگر دل کے کسی گہرے، خاموش گوشے میں کوئی تھا…
جس کی یاد بسا اوقات سانسوں کے ساتھ آتی،
جس کا انتظار لفظوں کے بغیر بھی محسوس ہوتا،
جو دل میں کہیں بہت نرم گوشے میں بسا ہوا تھا 
یاد کیا جاتا، چاہا جاتا، اور شدت سے یاد آتا تھا۔
وہ شخص جسے نام دینا مشکل تھا، مگر جس کی غیر موجودگی سب سے زیادہ موجود تھی۔
دن سمٹنے لگا، شام آ پہنچی، اور سورج کی کرنیں دروازے کی درزوں سے چھن کر اندر آنے لگیں۔
دروازہ ویسے ہی آدھا کھلا رہا
نہ مکمل بند، نہ پورا وا،
بس جیسے کسی کے لوٹ آنے کی آس میں رکا ہو۔
"یہ دروازہ بند کر دو..." اُس نے پہلو میں بیٹھے بچے سے کہا۔
اور جیسے ہی دروازہ بند ہوا،
اُس کی سانسوں کا سلسلہ بھی تھم گیا۔
اور ٹھیک اُسی لمحے،
مدتوں سے جس دستک کا انتظار تھا، وہ سنائی دی۔

کوئی اندر داخل ہوا...
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

اپنے بے خواب کواڑوں کو مفصل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے 











 

Comments

  1. The saddest thing about this is the pain behind it, and the most beautiful thing is how you turned that pain into something meaningful. Keep writing your words have a way of staying with people.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts